Tag Archive | "money"

Tags: , , , , , , , , , ,

Believe in what you say—– say what you believe in!

Posted on 06 February 2012 by Tea Server


Today while going to market I saw uncountable green flags fluttering at the side of every road. My heart ached to see the recently carpeted road with hollow outs for the flag poles.
With passing time the holes dug to fix the poles will get bigger breaching the road creating awful look of the city. Not only this but also making dangerous for the pedestrians and automobiles. Pedestrians often sprain their feet tumbling in the ditches while crossing the ruined roads. Blind, cripple, disabled and old fragile citizens lose their balance resulting in fractures and wounds. But who cares!!
May I ask what use these flags are for? Furthermore when the event is over then nobody bothers to take off these flags. The broken hanging faded strips of cloth present ugly pathetic look. Same is the case with banners. Events, occasions exhibitions and seasons go by but banners are never removed.
What service are we rendering to Islam by hoisting these black, green and other party flags?
I am neither prejudice nor bias against any religion, sect or cast.
Black flags or green flags both are raised to show respect and affection to one’s sect. But wouldn’t it be more helpful if same money spent on flags is given out in charity to the needy. To the patients who can’t afford to buy medicine and die a despondent death or to the parents to buy milk for their hungry infants or to liberate the innocent prisoners for their bail?
The great humanitarian poet Qateel Shifai rightly said, ”Muflis k badan ko bhi ha chader ki zaroorat, Ub khul ke mazaron pe ye ailan kiya jai”

مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

اب کھُل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

(The body of poor also needs the sheet of cloth,  so it should be announced at the shrines)

I mention Mazar (tomb, shrines) as symbol here. Same is done in shrines as token of love and of course out of respect. Is hunger, poverty, ailments, inflation, unemployment, crimes eliminated by spreading the sheets on the graves?
Being a Muslim it is our firm belief that Almighty Allah gives and removes our pain and not the decorated adorned sheets of cloth or banners.
The processions taken out to show strength for one’s sect is not what Islam or any religion preaches. Why cause problems for others? Why abuse and curse the VIPs for traffic jam. We do the same. We block the roads. We add noise pollution to the environment by using loudspeakers. We do all that is wrong, but create a hell out of it if others do the same——
Our character and realistic positive approach towards life is best way to impress and inspire others to follow our religion or party.  Otherwise no one is impressed rather they make fun of us.

Our older generation struggled to get an independent country for us,  to live a  harmonious life, but we the later generation did not perform our duties religiously hence handing over the country to you  in a very bad shape.

Now I request my youth to move forward, be practical and  be sincere to yourself, to your country and to your fellows. No matter what religion, cast creed, color or sect may any one follow. He is to be respected and loved. Believe in what you say—–and say what you believe in!
Raise your voice against uncivilized act. Prove your sincerity and loyalty with your deeds.
Love one love all is my message.

 

Syndicated from: Just Bliss

Comments (0)

Tags: , , , , , , ,

Research Says Money Can Buy Happiness

Posted on 09 December 2011 by Tea Server

Sure, that Mercedes and state-of-the-art home theatre are ways to get some kicks, but you can derive real joy from your money by applying these spending techniques.

Comments (0)

Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

آپ کو پاک اردو انسٹالر کا کیا فائدہ؟

Posted on 28 November 2011 by Tea Server

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاک اردو انسٹالر بنانے سے پہلے مجھے یہ اندازہ تو تھا کہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ سب میرے اللہ کا کرم ہے اور اس کے بعد آپ جیسے دوستوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ میں پاک اردو انسٹالر بنانے میں کامیاب ہوا۔

خیر میرا اصل موضوع یہ ہے کہ ایک عام کمپیوٹر صارف اور اردو ویب سائیٹوں کے مالکان کو آخر پاک اردو انسٹالر کا کیا فائدہ ہے یا ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ پاک اردو انسٹالرکمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کی سہولت تو فراہم کرتا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لئے اردو کے چند ضروری فانٹس بھی انسٹال کر دیتا ہے۔ یہ ایسے فانٹس ہیں جو عام طور پر اردو ویب سائیٹوں (Websites) اور بلاگوں (Blogs) پر استعمال ہوتے ہیں۔ کسی کمپیوٹر پر پاک اردو انسٹالر انسٹال ہونے کا مطلب ہے ”اس کمپیوٹر میں اردو کے حوالے سے مکمل سپورٹ شامل ہو جانا“۔ اس کے علاوہ پاک اردو انسٹالر انسٹال ہونے کے بعد ڈیسکٹاپ پر ایک آئی کان بنتا ہے جس میں اردو لکھنے کے متعلق تمام امدادی مواد موجود ہوتا ہے تاکہ جو لوگ اردو لکھنے کی طرف نئے آئے ہیں ان کی مکمل رہنمائی ہو سکے اور انہیں کوئی مشکل نہ ہو۔ اس امدادی مواد میں زبان کی تبدیلی سے لے کر اردو کی بورڈ کا خاکہ اور اردو لکھنے کے اصول تک شامل ہیں۔ خلاصہ یہ کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے، لکھنے اور اس بارے میں مکمل رہنمائی کے لئے صرف ایک ہی چیز چاہئے اور وہ ہے ”پاک اردو انسٹالر“۔

پاک اردو انسٹالر کے ذریعے اردو کی مکمل سپورٹ شامل ہونے کی وجہ سے ایک عام کمپیوٹر صارف تمام اردو ویب سائیٹوں کو بالکل ٹھیک پڑھ سکتا ہے اور اس کے علاوہ فیس بک، ٹویٹر اور انٹرنیٹ پر ہر جگہ اردو لکھ سکتا ہے۔ ای میل اور چیٹ بھی اردو میں کر سکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کا ایک بہت بڑا فائدہ تب ہوتا ہے جب کچھ تلاش کرنا ہو۔ مثال کے طور پر کسی نے شاعری یا کوئی خبر وغیرہ اردو میں تلاش کرنی ہو تو پھر گوگل یا کسی بھی سرچ انجن میں خاص اردو الفاظ لکھ کر تلاش کرے۔ اس سے تلاش کے بہتر نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ مواد چاہتے تو اردو میں ہیں لیکن وہ صرف اسی وجہ سے اردو مواد تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ وہ گوگل وغیرہ میں تلاش کے لئے ”اردو“ کی بجائے ”Roman Urdu“ یا انگلش میں لکھتے ہیں۔ عام طور پر اردو خبریں وغیرہ تلاش کرنے والا سرچ انجن میں News in Urdu یا Urdu Khabrain وغیرہ لکھتا ہے جبکہ اگر وہ ”اردو خبریں“ جیسے الفاظ لکھ کر تلاش کرے تو اسے بہتر نتائج ملیں گے۔ اس کے علاوہ کوئی پرانی خبر، شعر وغیرہ یا کوئی بھی معلومات اگر Roman Urdu کی بجائے خاص ”اردو“ میں تلاش کی جائے تو بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے علاوہ کسی فائل یا فولڈر کا نام اور کسی سافٹ ویئر میں بھی آسانی سے اردو لکھ سکتے ہیں۔ جیسے میں نے یہ تحریر پہلے مائیکروسافٹ ورڈ میں لکھی اور پھر یہاں پیسٹ کی ہے۔ اردو لکھنے کے لئے کسی دوسرے سافٹ ویئر کو ہر وقت ساتھ ساتھ چلانے کی ضرورت نہیں بلکہ پاک اردو انسٹالر کے ذریعے اپنے کمپیوٹر کو اردو لکھنے کے قابل بنائیں اور پھر ہر جگہ بالکل انگلش کی طرح آسانی سے اردو لکھیں۔

عام طور پر لوگ اپنی اردو ویب سائیٹ اور بلاگ وغیرہ پر استعمال ہونے والے فانٹ کا لنک دیتے ہیں تاکہ ان کے قارئین فانٹ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر لیں اور پھر ان کی ویب سائیٹ/بلاگ بہتر انداز میں پڑھا جا سکے۔ کئی لوگ سوچتے ہیں کہ ایک عام صارف بس اردو فانٹ ہی انسٹال کر لے تو ہمارے لئے کافی ہے جبکہ میں ایسا نہیں سوچتا۔ پاک اردو انسٹالر ایسی چیز ہے جو ویب سائیٹ اور بلاگ وغیرہ کے مالکان کی پہلی ضرورت یعنی ان کا فانٹ تو صارفین کے کمپیوٹر میں انسٹال کرتا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ اردو لکھنے کی سہولت بھی فراہم کر دیتا ہے۔ اگر عام صارفین اردو لکھنے کی طرف آئیں گے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی اردو ویب سائیٹ اور بلاگ وغیرہ کو ہو گا۔ جب انٹرنیٹ پر زیادہ لوگ اردو لکھیں گے تب ویب سائیٹ/بلاگ پر اتنی زیادہ رائے آئے گی۔ ویب سائیٹ اور بلاگ وغیرہ کے مالکان کو عام صارفین کے اردو لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ان کی ”ویب سائیٹ کی ٹریفک زیادہ“ ہو گی۔ سیدھی سی بات ہے جب عام صارفین گوگل وغیرہ میں خاص اردو الفاظ میں تلاش کریں گے تو تلاش کے نتائج میں انہیں کی اردو ویب سائیٹ نظر آئیں گی۔ ابھی تک عام صارفین کی بہت بڑی تعداد رومن اردو میں لکھ کر تلاش کرتی ہے یوں تلاش کے نتائج میں بھی رومن اردو، تصویری اردو اور انگلش کی ویب سائیٹ نظر آتی ہیں۔ جب لوگ اردو میں تلاش کریں گے تو سرچ انجن بھی اردو کی ہی ویب سائیٹ دکھائیں گے تو ظاہر ہے اردو ویب سائیٹوں کی ٹریفک بڑھے گی۔ ٹریفک بڑھنے سے اشتہارات ملیں گے اورپھر اردو کی ترویج کے ساتھ ساتھ اردو والوں کو کچھ مالی فائدہ بھی ہو گا۔ اس وقت ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ اردو قارئین کم ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اردو قارئین کو پتہ ہی نہیں کہ اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر جگہ اردو لکھی بھی جا سکتی ہے اور تلاش بھی اردو میں کی جا سکتی ہے۔ اردو قارئین رومن اردو میں تلاش کرتے ہیں اور اردو کی اصل ویب سائیٹوں/بلاگوں کی بجائے کہیں اور نکل جاتے ہیں۔ یوں قارئین بہتر اردو مواد تک نہیں پہنچ پاتے اور اصل اردو کی ویب سائیٹوں کو زیادہ قارئین نہیں مل پاتے۔

عام صارفین اور ویب سائیٹ/بلاگ کے مالکان سے گذارش ہے کہ پاک اردو انسٹالر کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں، لوگوں کو اردو کی اہمیت بتائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اردو لکھنے کی طرف قائل کریں۔ یوں اردو کی ترویج میں حصہ تو لیں گے ہی لیکن ساتھ ساتھ اپنی ویب سائیٹ/بلاگ پر رائے اور ٹریفک بھی بڑھا سکیں گے۔ اپنی ویب سائیٹوں اور بلاگوں پر پاک اردو انسٹالر کا بینر لگائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ نہایت آسانی اور صرف چند کلکس سے اردو ویب سائیٹ/بلاگ بالکل ٹھیک انداز میں پڑھے جا سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ آسانی سے اردو لکھی بھی جا سکتی ہے۔ لوگوں کو بتائیں کہ اگر ابھی بھی اردو پڑھنے اور لکھنے میں کہیں معمولی سی مشکل ہے تو اس کا حل بھی صرف اسی لئے نہیں ہو رہا کہ اردو والے خود ”اردو“ کی طرف نہیں آ رہے۔ ظاہر ہے جب اردو لکھنے والے زیادہ ہوں گے تو پھر بڑی بڑی ویب سائیٹیں بھی اردو فانٹ شامل کر لیں گی۔

پاک اردو انسٹالر“ کا سب کو جو فائدہ ہو رہا ہے، وہ اپنی جگہ، لیکن اب پاک اردو انسٹالر جہاں تک پہنچے گا ، یہ اپنی ترویج کرنے والوں کی بھی اتنی مشہوری کرے گا۔ پاک اردو انسٹالر انسٹال کرنے کے بعد ڈیسکٹاپ پر جو آئی کان بنتا ہے اس میں ”اردو بلاگر“ اور ”اردو ویب سائیٹ“ کے نام سے لنک شامل کیے ہیں۔ یہ ایسے لنک ہیں جن پر پاک اردو انسٹالر کی ترویج کرنے والوں کی فہرست موجود ہے۔ آپ بھی یہ فہرست دیکھیں اور اگر آپ نے پاک اردوانسٹالر کا بینر لگایا ہوا ہے یا کسی اور ذریعے سے پاک اردو انسٹالر کی ترویج میں حصہ لے رہیں اور آپ کا نام اس فہرست میں موجود نہیں تو اس تحریر پر تبصرہ یا مجھ سے رابطہ کر کےآگاہ کریں تاکہ آپ کا نام بھی شامل کیا جائے۔ یہ ابھی بہت بنیادی قسم کی فہرست ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بلاگران اور ویب سائیٹوں کی تفصیل، پروفائل اور دیگر کافی کچھ شامل کیا جائے گا۔

آپ بھی اردو کی ترویج میں حصہ لیں۔ پاک اردو انسٹالر کا بینر اپنے بلاگ/ویب سائیٹ پر لگائیں۔ شکریہ


پاک اردو انسٹالر کے اعدادوشمار

آپ کو بتاتا چلوں کہ ایک اندازے کے مطابق پاک اردو انسٹالر اپنی شروعات 15جون2011ء سے اب تک یعنی 28نومبر2011ء تک تقریباً 9000 مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے اور آج کل روزانہ80 سے 100 کے قریب ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے اور یہ تعداد دن بدن زیادہ ہو رہی ہے۔ یہ اعدادوشمار میری ویب سائیٹ کے ہیں، باقی جن دوستوں نے ادھر ادھر اپلوڈ کر دیا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں۔ بعض دوست تو ابھی بھی سب سے پہلے ورژن کو ادھر ادھر پھیلا رہے ہیں، جبکہ شروع سے ابھی تک کئی چھوٹی اور کئی بڑی تبدیلیوں کے بعد پاک اردو انسٹالر کے کل 6ورژن جاری کیے جا چکے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ابھی تک پاک اردو انسٹالر میں کسی خرابی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ورژن صرف اسے بہتر سے بہتر کرنے کے لئے جاری کیے گئے۔ تازہ ورژن 3.2 میں جمیل نوری نستعلیق فانٹ کے کچھ غلط الفاظ بھی درست کر دیئے گئے ہیں، جیسا کہ ”ب-ی-ت-ے“ جڑ کر لفظ ”بیٹے“ بن جاتا تھا۔ ایک اور گذارش تھی جو کہ میں اکثر کرتا ہوں لیکن کئی دوست ادھر توجہ ہی نہیں دیتے، اگر ہو سکے تو ادھر ادھر کے لنک دینے کی بجائے پاک اردو انسٹالر کی ڈاؤن لوڈنگ کے لئے میرے بنائے ہوئے صفحہ کا لنک دیں یعنی یہ لنک(http://www.mbilalm.com/download/pak-urdu-installer.php)۔ ایک تو یہاں پر آٹھ کے قریب مختلف ڈاؤن لوڈ لنک دیئے ہیں تاکہ اگر ایک لنک میں مسئلہ ہو تو کسی دوسرے سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے۔ دوسرا جو بھی اس ڈاؤن لوڈ والے صفحہ پر آئے گا اسے تازہ ورژن ہی ملے گا۔ تیسرا اگر کوئی ڈاؤن لوڈ لنک تبدیل ہو جائے تو وہ یہاں پر فوراً تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک سدا بہار اور مستقل لنک ہے۔ اس صفحہ کو کھولتے ہی ڈاؤن لوڈنگ خودبخود شروع ہو جاتی ہے۔ اگر کسی مسئلہ کی وجہ سے نہ بھی ہو تو صارفین کے لئے دیگر کئی سہولیات دی گئی ہیں تاکہ جو پاک اردو انسٹالر حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اس صفحہ سے خالی ہاتھ نہ لوٹے اور پاک اردو انسٹالر حاصل کر کے ہی جائے۔ پاک اردو انسٹالر کے آٹھ ڈاؤن لوڈ لنک میں انٹرنیٹ کی بہترین ڈاؤن لوڈنگ ویب سائیٹ سی نیٹ اور سافٹ پیڈیا کے لنک بھی شامل ہیں یعنی ان ویب سائیٹ نے پاک اردو انسٹالر کو مکمل ٹھیک پایا اور اپنی ویب سائیٹ پر اپلوڈ کیا۔

اس کے علاوہ پاک اردو انسٹالر کا صفحہ انگریزی اور تصویری اردو میں بنانے کے ساتھ ساتھ کافی سارے بینر اور بٹن بھی بنا دیئے ہیں تاکہ اردو اور پاک اردو انسٹالر کی ترویج میں کسی چیز کی کوئی کمی نہ رہے۔ دوستوں اس حوالے سے میں جو کر سکتا تھا وہ کر دیا ہے اور ان شاء اللہ مزید بھی کرتا رہوں گا، لیکن ساتھ ساتھ آپ بھی جہاں تک ہو سکے اس میں حصہ لیں۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ وہی بہتر مدد اور صلہ دینے والا ہے۔

Comments (0)

Tags: , , , , , , , ,

The adventures of the bara note

Posted on 25 November 2011 by Tea Server

The bara note was resting lazily in the mysterious labyrinth inside an ATM machine. It was dozing peacefully, pretentiously aware of the power and influence of it’s existence. Suddenly, the mechanical spins and clicks alarmed the note of the beginning of the next adventure it would face.

Outside the ATM, a silly girl had accidentally hit the 20K on the touch pad instead of the 2k she needed. As she realized her mistake, three baray notes with five slightly chotay notes were pushed smoothly so towards her. Exasperated at her mistake, she tucked the money inside her designer bag and mentally planned out when she would have to visit her bank to deposit all this money that she didn’t need at this time.

Weeks went by. The bara note did not see any sunlight. It just experienced a mild gust of chilly winter air whenever the bag was opened. It could smell clothes and shoes nearby. But the silly (now slightly cruel) girl would not spend it!

Finally, the note saw daylight. It could smell chocolate in the air. Yay. It loved chocolate. It didn’t love people who touched it with chocolate covered hands though. That was disgusting. It was handed over to the cashier at Pie in the Sky.

The note felt purple neon lights blinding it. What was happening? What? The cashier was saying it wasn’t real. How absurd. The note thought. Of course I’m real. The silly girl was defending it bravely, stating over and over that she had received it from an ATM machine and that it could definitely not be fake. The silly (now brave) girl snatched it back from the cashier and started to exit the bakery. But then she turned around. The cashier was saying something. She deposited the bara note back into her bag and withdrew a shiny green card. She would have to get the note checked at the bank later.

The bara note went back into its lazy slumber, but this time it had a more modest air about itself. There was something more powerful and influential in town.

Comments (0)

Register your blog:

Enter your blog address below to become a part of the TeaBreak network.

About TeaBreak:

TeaBreak.pk is a blog aggregator that syndicates pakistani blogs and categorizes them appropriately. Our mission is to give our readers a break from work and let them enjoy their blog time. And we are doing this by bringing all the popular blogs of Pakistan on one platform.