دنیا میں موجود ایک کڑی حقیقت کو کسی شاعر نے کیا خوب الفاط کے سانچے میں ڈبویا ہے۔اس نظم کو پڑھنے کے بعد یقیناً آپ کی آنکھیں نم ہوجائیں گی۔
جب تو پیدا ہوا۔۔۔۔
جب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا
یہ جہاں تیری سوچوں سے بھی دور تھا
ہاتھ پاؤں بھی تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیا کے سپنے نہ تھے
تجھ کو آتا تھا جو صرف رونا ہی تھا
دودھ پی کے تیرا کام سونا ہی تھا
تجھ کو چلنا سکھایا تھا ماں نے تیری
تجھ کو دل میں بسایا تھا ماں نے تیری
ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا پڑھنے لگا
دھیرے دھیرے تو کڑیل جوان ہو گیا
تجھ پہ سارا جہاں مہربان ہو گیا
زور بازو پہ تو بات کرنے لگا
خود ہی سجنے لگا خود سنورنے لگا
ایک دن ایک حسینہ تجھے بھا گئی
بن کے دلہن وہ پھر تیرے گھر آگئی
فرض اپنے سے تو دور ہونے لگا
بیج نفرت کا خود ہی تو بونے لگا
پھر تو ماں باپ کو بھی بھلانے لگا
تیر باتوں کے پھر تو چلانے لگا
بات بہ بات پہ ان سے تو لڑنے لگا
قائدہ ایک نیا پھر تو پڑھنے لگا
یاد کر تجھ سے ماں نے کہا ایک دن
اب ہمارا گزارہ نہیں تیرے بن
سن کے یہ بات تو تیش میں آگیا
تیرا غصہ تیری عقل کو کھا گیا
جوش میں آکر تو نے یہ ماں سے کہا
میں تھا خاموش سب دیکھتا ہی رہا
آج کہتا ہوں پیچھا میرا چھوڑدو
جو ہے رشتہ میرا تم سے وہ توڑدو
جاؤ جا کے کہیں کام دھندہ کرو
لوگ مرتے ہیں تم بھی کہیں جا مرو
پھر وہ بے بس اجل کو بلاتی رہی
زندگی ہر روز اس کو ستاتی رہی
ایک دن موت کو بھی ترس آگا
اس کا رونا بھی تقدیر کو بھا گیا
اشک آنکھوں میں لے کر روانہ ہوئی
موت کا ایک ہچکی بہانہ ہوئی
ایک سکون اس کے چہرے پہ چھانے لگا
پھر تو میت کو اس کی سجانے لگا
مدتیں ہوگئیں آج بوڑھا ہے تو
جو پڑا ٹوٹی کھٹیا پہ کوڑا ہے تو
تیرے بچے بھی اب تجھ سے ڈرتے نہیں
نفرتیں ہیں محبت وہ کرتے نہیں
درد میں تو پکارے کہ او میری ماں !
تیرے دم سے تھے میرے دونوں جہاں
وقت چلتا رہے وقت رکتا نہیں
ٹوٹ جاتا ہے وہ جو کہ جھکتا نہیں
اور لیتا رہے جو بڑوں کی دعا
اس کے دونوں جہاں اس کا حامی خدا
یاد رکھنا تو ساغر کی اس بات کو
بھول نہ جانا رحمت کی برسات کو
نظم میں اور اشعار بھی شامل ہیں جن میں سے خاص چند اشعار اوپر درج ہیں۔اللہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
