ISLAMABAD TONIGHT
WITH NADEEM MALIK
23-02-2012
میرا رحمان ملک سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہربیار مری کی اسلام آباد ٹونائٹ میں گفتگو
ہم دنیا کے تمام ممالک سے بلوچستان کے مسئلے پر رابطے کر رہے ہیں۔ ہربیار مری
میں رحمان ملک جیسے کسی غیر سنجیدہ آدمی سے رابطہ نہیں رکھتا۔ براہمداغ بگٹی
ہمارا پاکستان کی حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ براہمداغ بگٹی
ہم صرف امریکہ اور نیٹو کی موجودگی میں پاکستان حکومت سے بات چیت کریں گے۔ براہمداغ بگٹی
ہمارے بڑوں نے پاکستان حکومت سے بات چیت کی تھی لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ براہمداغ بگٹی
بلوچستان کا مسئلہ نیا نہیں ہے پچھلی حکومتوں کے دور میں بھی یہ چلتا رہا ہے۔ نثار کھوڑو
مشرف دور میں تو بلوچستان مسئلے کی حد ہو گئی انہوں نے کہا کہ وہاں سے وار کروں گا جہاں سے کوئی سوچ بھی نہ سکے۔نثار کھوڑو
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں بلوچ حکومت کا حصہ تھے۔نثار کھوڑو
بلوچ لیڈروں نے دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں حصہ نہ لے کر غلطی کی۔ نثار کھوڑو
بینظیر بھٹو نے تمام محروم طبقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی لیکن وہ زندہ نہ رہیں۔ نثار کھوڑو
پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلوچ لوگوں سے معافی مانگ کر اور صوبائی خود مختاری دے کر کچھ اچھے اقدامات کئیے ہیں۔ نثار کھوڑو
روز مسخ شدہ لاشیں ملنے کی وجہ سے بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہو پا رہے۔ نثار کھوڑو
میرے ساتھ آصف زرداری کے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔ ہربیار مری
زرداری سے امید تھی کہ بلوچوں کے مسائل حل کریں گے لیکن ان کا دور فوجی دور سے بھی برا نکلا ہے۔ ہربیار مری
پہلے چھپ کر مارتے تھے پیپلز پارٹی کے دور میں سر عام بلوچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ہربیار مری
زوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی بلوچوں کے خلاف کاروئی کی گئی تھی اب بھی وہی ہو رہا ہے۔ ہربیار مری
جو کچھ ہم نے بلوچوں کے ساتھ کیا ہے اس بعد وہ ہم پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں۔ جاوید ہاشمی
ہم نے بلوچوں کو احساس دلایا کہ تم ایک چھوٹی سی اکائی ہو اور ہم تمہیں دبا کر رکھ سکتے ہیں۔ جاوید ہاشمی
بلوچ سردار جو باتیں کر رہے ہیں وہ سچ ہیں اور ہمیں سچ کا سامنا کرنا چاہئیے۔ جاوید ہاشمی
امریکہ افغانستان میں شکست کے بعد بلوچستان پر بیان دے کر ہمارے علاقعے میں آگ لگا کر جانا چاہتا ہے۔ جاوید ہاشمی
بلوچوں کے ساتھ بھٹو دور کی زیادتیوں کی زمہ دار پیپلز پارٹی اور اپنے دور کی زیادتیوں کے ہم زمہ دار ہیں۔جاوید ہاشمی
حکومت پاکستان سے بات چیت کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ مانے کہ اس نے بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا تھا۔ ہربیار مری
بات چیت کی دوسری شرط یہ ہے کہ پاکستان کو بلوچستان سے نکلنا ہو گا۔ہربیار مری
بلوچستان سے گیس نکلی لیکن ان کو انیس سو پچاسی جبکہ لاہور اور کراچی کو انیس سو تریپن میں مل گئی تھی۔جاوید ہاشمی
پاکستان میں رہتے ہوئے بلوچستان کے لوگوں کو ان کے حقوق دینے پڑیں گے۔جاوید ہاشمی
چند سال پہلے تک بلوچ لیڈر حکومت میں شامل تھے لیکن مشرف نے آ کر حالات کو خراب کر دیا۔ نثار کھوڑو
علحیدگی کا نعرہ لگانا آسان ہوتا ہے لیکن عملی طور پر حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔نثار کھوڑو
حکومت کی اوپر کی قیادت کو آگے بڑھ کر بلوچوں کو پیغام دینا چاہئیے کہ ہم اکٹھے مل کر چل سکتے ہیں۔ نثار کھوڑو
حکومت اور بلوچ مل کر بیٹھیں گے تو آگے بڑھنے کے راستے نکل آیں گے۔ نثار کھوڑو
Filed under: CURRENT AFFAIRS