Posted on 06 February 2012 by Tea Server
کمپیوٹر گیمنگ کے شائقین سولائزیشن کے نام سے بخوبی واقف ہوں گے۔ نقاد دو عشرے سے سٹریٹیجک گیمز کے زمرے میں اسے متفقہ طور پر سب سے زیادہ کھیلی جانے والی۔۔ یا سب سے زیادہ بکنے والی گیم قرار دیتے ہیں۔ چار ہزار قبل مسیح سے موجودہ دور تک کی تہذیب کو ہماری انگلیوں کی جنبش پر لا گرانے والا تہذیب کا یہ کھیل ہر کھیلنے والے کو اپنے وسیع کینوس، لا محدود امکانات اور مستند حوالوں سے موہ لیتا ہے۔
۔ ۔ ۔ مزید پڑھیے۔
Posted on 16 January 2012 by Tea Server
دسمبر کی اس کہر بھری صبح مجھے آتش فشانی منصوبہ (ہمم۔ پروجیکٹ وولکینو)کی یاد دہانی کرائی گئی۔ گرم گرم چائے کی اٹھتی بھاپ کے پیچھے سے جھانکتے میرے چہرے پر موجود سستی اور سردی کے تاثرات کی حقیقت سے پرانی واقفیت رکھنے کی وجہ سے اس نے خاموشی سے بیڈروم میں جاکر گہری نیند سوتے باپ سے ماہر ہیپناٹائزر کی طرح سکول آنے کا پکا وعدہ لے لیا۔ آہ۔ ان خاموش منصوبہ بندیوں سے مجھے کتنی چڑ ہے۔
۔ ۔ ۔ مزید پڑھیے۔
Posted on 25 December 2011 by Tea Server
اگر ایک مثالی مشین عمومی حالات میں مثالی کارکردگی کی حامل ہو سکتی تو شائد ایک عمومی سگنل بھی لامحدود طور پر فضا میں موجود رہتا۔ آسان الفاظ میں جو ہم کل بولتے اس کو آج بھی سن سکتے۔۔ کیونکہ آواز کی لہریں مسلسل چلتی رہتیں اور کبھی ختم نہ ہوتیں۔ لیکن حرحرکی قوانین نے ابدیت کے مثالی تصورات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہر طرح کے عوامل کی موجودگی میں سگنل طول میں تو بڑھ گئے ہیں لیکن ان کی عمر میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہو پایا۔ ورنہ میمو کا مسئلہ اتنا لمبا نہ جاتا۔
۔ ۔ ۔ مزید پڑھیے۔
Posted on 27 November 2011 by Tea Server
چائے پکنے میں کچھ ہی لمحے ہیں۔ ایسی پارٹیز میں عموما چائے خوب گاڑھی، تیز دودھ پتی پسند کی جاتی ہے۔ میں آنکھ جمائے کھڑی ہوں۔ آج میں کوئی بھی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ غلط ہوتا ہی جارہا ہے۔ “میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔ کچھ لکھنا نہیں چاہتی، کچھ بولنا نہیں چاہتی۔۔” میں منہ ہی منہ میں خود کو مسلسل یاد دہانی کراتی جا رہی ہوں۔ بیٹھک سے روانی سےایک کے بعد ایک تازہ ترین خبروں کو آنکا جا رہا ہے۔۔ گول کمرے میں ڈرامے، کپڑے اور لوگ زیر بحث ہیں۔ لیکن میں دور ہی دور سے مسکرا کر اپنے شامل ہونے کا یقین دلا رہی ہوں۔۔” میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔۔” میں نے دہرایا۔
بچے جرابوں کے بل پر ادھر سے ادھر پھسل رہے ہیں۔ اوپر نیچے دوڑ رہے ہیں۔ میں نے چند لمحے پہلے تشدد کی زیادتی کا بہانہ بنا کر سٹاروارز بند کردی تھی جس نے مختلف عمروں کے بچوں کو ایک ہی کمرے میں باندھا ہوا تھا۔ شور سے گھبرا کر میں نے دوبارہ ٹی وی آن کرکے کارٹون چینل میں ٹام اینڈ جیری لگا دیا۔ صرف کردار بدلے ہیں۔
چائے کی خوشبو اچھی لگ رہی ہے۔ لیکن یہ لپٹن نہیں ہے۔ میں دو کوس دور جا کر دو پیسے زیادہ دے کر پاکستانی یا مسلمان دکان سے سودا لانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن وہ دو پیسے کبھی پاکستانی یا مسلمان کا نفع نہیں بنتے۔ میرے جانے پہچانے برانڈ وہاں ہوتے ہی نہیں۔ “ان کی مارکیٹ نہیں ہے۔۔” اکثر معلوم ہوتا ہے۔ “لیکن یہ برانڈ۔۔ “میں حلیم کے لیے دال ہاتھ میں لے کر بحث کرنے کا وقت نہ ہوتے ہوئے بھی سوال کر گئی تھی۔۔ “ارے بھئی دال تو دال ہے ، برانڈ جو بھی ہو۔” وہ کافی سیانی دوکاندار ہیں ۔۔ یہی دلیل انہوں نے پچھلی بار اردو کے مختلف نام کے بھی دی تھی۔۔”اردو تو اردو ہی رہے گی خواہ کوئی اسے ریختہ کہے یا ہندی۔۔” میں نظر چرا گئی تھی۔۔
سوال اب عمرانی یا سماجی نہیں رہا۔۔ اس محاذ پر فتح کا جھنڈا لہرائے تو کم و بیش تین عشرے بیت چکے ہیں۔ سوال اب خالص معاشیات کا ہے۔ سوال غربت کی اس انتہائی لکیر کا ہے جو ہمارے ملک میں اب بھی موجود نہیں۔ سوال سستے مزدوروں کا ہے۔ لیکن سوال کرنے کا میرے پاس وقت نہیں ہے یا حق ۔ اس پر میں ابھی نہیں سوچ سکتی۔۔
میں اس راستے سے بہت دور ہوں جہاں لوگ اپنی آپشنز اوپن ہونے پر خوش ہیں۔ ان کے سینما اب فنون لطیفہ کے نئے رنگین افق کی جانب نظر جمائے کھڑے ہیں اور کپڑوں، ڈراموں کی نئی کھیپ کی تیاری بھی سامنے ہوگی۔ لیکن مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ اس خوشحالی سے راستوں کو کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ راستے تو بس راندہ، درماندہ اور پائمال ہوتے ہیں۔ راستے منزل نہٰں بنتے۔ ہاں سڑکوں کے ساتھ ساتھ بنے ایک رات کے موٹل، سفری بیت الخلاء اور چائے خانے، ٹرکوں کی سروس کے اڈے ایسے کاروبار پھلنے پھولنے کی ایک امید بھی ہے۔ اگر میکڈونلڈ والوں نے اس کا ٹھیکا پہلے سے نہ لے لیا۔۔ افوہ چائے ابلنے کو تھی۔۔ بچت ہو گئی
“ارے تم نے کچھ بات وات نہیں کی آج ۔۔” انہوں نے شفقت سے ہاتھ میرے کندھے پر دھرا۔۔ “کچھ بولو تم بھی اس بارے میں۔۔”
“میں ۔۔ میں بھلا کیا بولوں؟؟” میں نے دل ہی دل میں دہرایا۔۔ کچھ نہیں بولنا ، کچھ نہیں سوچنا۔۔
“کچھ تو بولو۔ تبدیلی کے بارے میں کچھ کہو۔۔”
“میں کچھ کہوں تو مگر۔۔۔”
“مگر کیا؟؟؟”
“وہ ۔۔کوہان کا ڈر ہے۔۔”
ان کی شفقت بھری آواز اچانک بارعب ہوگئی۔۔ “کوہان کا ڈر ہے؟؟دو ہزار سال کی لکھی اور کئی ہزار سال کی زبانی تاریخ نے بولنے والوں کو ایک بات ازبر کرادی ہے۔۔ اپنے حق کے لیے تم جب بھی بولو گے۔۔ کوہان تو ہوگا۔”
Posted on 21 November 2011 by Tea Server
Thank you to all of you who took out time and voted for us at the Pakistan Blog Awards 2011. With the help of you all, We have been able to grab a good number of votes. But friends, the voting is still going on and will be on till 5th December, 2011. If you have not yet voted, please take out time to cast your vote which hardly takes less than a minute! If you have already vote, please share this either by:
• Forwarding to your email contacts
• Sharing on any social networking media you use (share buttons present at the end of the article)
• or by tweeting about it!
Thank you so much for your constant support and concern. You can support me by 3 simple steps. Here’s how:
Step 1:
Open these pages Best Agents of Change Blog, Best Celebrity Profiling Blog & Best Video Blog Than scroll down.
Step 2:
Rate our website with stars and leave your valued comments.
Step 3:
Please share this with your friends as well, any way you can. Every vote counts and can help us win!
Thank you in advance. Thank you so much!