Posted on 20 February 2012
· Categorized in Other.
یادِ وَطَن نہ آئے ہمیں کیوں وَطَن سے دُورجاتی نہیں ہے بُوئے چمن کیا چمن سے دُور گر بُوئے گُل نہیں، نہ سہی، یادِ گُل تو ہےصیّاد لاکھ رکھّے قفس کو چمن سے دُور پاداشِ جرمِ عشق سے کب تک مفَر بھلامانا کہ تم رہا کیے دار و رسَن سے دُور مولانا محمد علی جوہر [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 18 February 2012
· Categorized in Other.
خواجہ الطاف حسین حالی کی ایک معروف غزل اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبلکل نہ پہچان سکے گی، گلِ تر کی صورت خواجہ الطاف حسین حالی اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیاراک [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 16 February 2012
· Categorized in Miscellaneous.
شاہ نیاز احمد بریلوی (رح) سلسلہٴ چشتیہ نظامیہ کے ایک نامور صوفی تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اردو اور فارسی کے بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ اور دہلی میں نامور اردو شاعر اور مسلم الثبوت استاذ، مصحفی کے استاذ تھے جیسا کہ مصحفی نے خود اپنی کتاب “ریاض الفصحاء” میں ذکر کیا ہے۔ [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 14 February 2012
· Categorized in Miscellaneous.
سرمد شہید کا اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں قتل مذہب کے پردے میں ایک سیاسی قتل تھا، جیسا کہ مؤرخین اور صوفیاء کا خیال ہے اور علماء میں سے بھی امامِ الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ایسا ہی لکھا ہے اور مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے بھی “رودِ کوثر” میں سرمد شہید کے [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 28 January 2012
· Categorized in Other.
ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیےدوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنےہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرفاس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کیلوگوں نے میرے صحن میں [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 26 January 2012
· Categorized in Miscellaneous.
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیںاور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑے تو سچ نہ رہےجھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں اتنے حصّوں میں بٹ گیا ہوں میںمیرے حصّے میں کچھ بچا ہی نہیں زندگی، موت تیری منزل ہےدوسرا کوئی راستا ہی نہیں جس کے کارن فساد ہوتے ہیںاُس کا کوئی [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 24 January 2012
· Categorized in Miscellaneous.
وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھاایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہےکون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نےپھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہگزاروں میں نہ [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 14 January 2012
· Categorized in Miscellaneous.
بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام استاگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفاں باش (مرزا عبدالقادر بیدل) حادثہ کے ساز کے ساتھ ہم نغمہ ہونا (سُر ملانا) ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت بپا کرتا ہے تو تُو طوفان بن جا۔—— گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ راتازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 11 January 2012
· Categorized in Other.
حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجےگلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے ہمیں سو بار ترکِ مے کشی منظور ہے لیکننظر اس کی اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کووہ جلوہ، جلوۂ جانانہ بن جائے تو کیا کیجے [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 09 January 2012
· Categorized in Other.
دل میں اب آواز کہاں ہےٹوٹ گیا تو ساز کہاں ہے آنکھ میں آنسو لب پہ خموشیدل کی بات اب راز کہاں ہے سرو و صنوبر سب کو دیکھاان کا سا اندا ز کہاں ہے مولانا ماہر القادری دل خوابیدہ، روح فسردہوہ جوشِ آغاز کہاں ہے پردہ بھی جلوہ بن جاتا ہےآنکھ تجلی ساز کہاں [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 03 January 2012
· Categorized in Other.
مجید امجد کی ایک انتہائی خوبصورت غزل جنونِ عشق کی رسمِ عجیب، کیا کہنامیں اُن سے دور، وہ میرے قریب، کیا کہنا یہ تیرگئ مسلسل میں ایک وقفۂ نوریہ زندگی کا طلسمِ عجیب، کیا کہنا مجید امجد جو تم ہو برقِ نشیمن، تو میں نشیمنِ برقالجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب، کیا کہنا ہجومِ رنگ فراواں [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 23 December 2011
· Categorized in Miscellaneous.
ایک دن خواجہ الطاف حسین حالی کے پاس مولوی وحید الدین سلیم (لٹریری اسسٹنٹ سر سید احمد خان) بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور مولانا حالی سے پوچھنے لگا۔ “حضرت، میں نے غصہ میں آ کر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تجھ پر تین طلاق، لیکن بعد میں مجھے اپنے کیے پر [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 19 December 2011
· Categorized in Other.
سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگبرسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائےاکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ تارہ بن کے دور افق پر کانپے، لرزے، ڈولےکچی ڈور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ شبنم شکیل دل کو تو [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading
Posted on 13 December 2011
· Categorized in Miscellaneous.
شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں ہائلکُجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا (حافظ شیرازی) اندھیری رات ہے، اور موج کا خوف ہے اور ایسا خوفناک بھنور ہے۔ ساحلوں کے بے فکرے اور انکی سیر کرنے والے، ہمارا حال کیسے جان سکتے ہیں؟ ——–بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاںکردہ ام پیدا [...]
Served By صریرِ خامۂ وارث
Continue Reading