وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھاایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہےکون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نےپھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہگزاروں میں نہ [...]
وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھاایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہےکون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نےپھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہگزاروں میں نہ [...]