Served By Blog » صریرِ خامۂ وارث

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا – ہوش ترمذی

Posted on 24 January 2012  · Categorized in Miscellaneous

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھاایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہےکون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نےپھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہگزاروں میں نہ [...]

Read the complete post at: صریرِ خامۂ وارث »

Leave a Reply