خاموشی سے ہار گیا ہوں خود کو مرتے دیکھا ہے بربادی کی چھت پر بیٹھے عمر گزرتے دیکھا ہے روتے، بلکتے، آہیں بھرتے خود کو سنورتے دیکھا ہے تنہا، تنہا، شہر وفا میں زیست بکھرتے دیکھا ہے Syndicated from: سرگوشیاں
خاموشی سے ہار گیا ہوں خود کو مرتے دیکھا ہے بربادی کی چھت پر بیٹھے عمر گزرتے دیکھا ہے روتے، بلکتے، آہیں بھرتے خود کو سنورتے دیکھا ہے تنہا، تنہا، شہر وفا میں زیست بکھرتے دیکھا ہے Syndicated from: سرگوشیاں